جمعہ 24 جولائی 2026 - 05:55
کربلا کی راہ نہیں رکتی!

حوزہ/ شلمچہ کی سرزمین پر جب دھماکوں کی گونج اٹھی، فضا بارود کی بو سے بھر گئی اور دو عاشقانِ حسینؑ اپنے خون سے راہِ کربلا کو سرخ کر گئے، تو شاید دنیا نے گمان کیا ہوگا کہ خوف کے یہ شعلے زائرین کے قدم روک دیں گے۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر وہی جواب دہرایا جو چودہ صدیاں پہلے نینوا کے تپتے ہوئے ریگزار نے دیا تھا۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

شلمچہ کی سرزمین پر جب دھماکوں کی گونج اٹھی، فضا بارود کی بو سے بھر گئی اور دو عاشقانِ حسینؑ اپنے خون سے راہِ کربلا کو سرخ کر گئے، تو شاید دنیا نے گمان کیا ہوگا کہ خوف کے یہ شعلے زائرین کے قدم روک دیں گے۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر وہی جواب دہرایا جو چودہ صدیاں پہلے نینوا کے تپتے ہوئے ریگزار نے دیا تھا۔ لاشیں گریں، خون بہا، آنکھیں اشکبار ہوئیں، مگر کربلا کی طرف بڑھتے قدم نہ رکے، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط، پہلے سے زیادہ پُرعزم اور پہلے سے زیادہ عاشقانہ انداز میں آگے بڑھتے چلے گئے۔

عشقِ حسینؑ دلیلوں سے نہیں، قربانیوں سے زندہ رہتا ہے۔ اس کی زبان آنسو ہیں، اس کی منطق وفا ہے، اور اس کی تاریخ شہادتوں سے لکھی گئی ہے۔ اسی لیے جو راستہ علی اصغرؑ کے خون، قاسمؑ کی جوانی، عباسؑ کے بازوؤں اور حسینؑ کے سجدۂ آخر سے روشن ہوا ہو، وہاں چند میزائل، چند دھماکے اور چند دھمکیاں آخر کیا حیثیت رکھتی ہیں؟

شلمچہ پر گرنے والا ہر میزائل دراصل کربلا کی طرف بڑھتے ہر قدم سے شکست کھا گیا۔ دو زائر شہید ہوئے، کئی زخمی ہوئے، مگر حیرت انگیز حقیقت یہ تھی کہ نہ قافلے منتشر ہوئے، نہ راستے سنسان ہوئے اور نہ ہی زیارت کی آرزو میں کوئی کمی آئی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہر شہید کی میت سے ایک نئی صدا بلند ہو رہی ہو: “کربلا ابھی ہمیں بلا رہی ہے۔”

یہ پہلا حملہ نہیں، نہ یہ پہلی آزمائش ہے۔ اہلِ بیتِ رسولؐ کے چاہنے والوں کو صدیوں سے ڈرایا گیا، قتل کیا گیا، زندانوں میں ڈالا گیا، راستے بند کیے گئے، مگر عشق کی شاہراہ کبھی بند نہ ہو سکی۔ صدام کے سیاہ دور میں جب زیارتِ اربعین جرم تھی، جب کربلا کی طرف اٹھنے والا ہر قدم موت کو دعوت دیتا تھا، تب بھی لاکھوں عاشق خاموشی سے ریگستانوں، کھیتوں اور دشوار راستوں سے گزرتے ہوئے امام حسینؑ کے روضے تک پہنچتے تھے۔ کتنے ہی زائر راستوں میں شہید ہوئے، کتنے بے نام قبروں میں سو گئے، مگر زیارت کا پرچم زمین پر نہ گر سکا۔

آج شلمچہ کی سرحد پر بہنے والا خون دراصل اسی ابدی داستان کا نیا باب ہے۔ یہ خون شکست کی علامت نہیں، بلکہ اس اقرار کا عنوان ہے کہ حسینؑ تک پہنچنے والا راستہ شہادت سے ڈرتا نہیں، شہادت سے سنورتا ہے۔ اس راہ میں گرنے والا ہر قطرۂ خون اگلے برس لاکھوں نئے قدموں کو جنم دیتا ہے۔

اربعین کا یہ عظیم سمندر کسی حکومت، کسی سرحد، کسی طاقت یا کسی ہتھیار کا محتاج نہیں۔ یہ دلوں کی وہ موج ہے جو فرات سے بھی زیادہ بے قرار ہے۔ اسے روکنے کی کوشش کرو تو یہ اور بلند ہوتی ہے، اسے دبانے کی کوشش کرو تو یہ اور پھیلتی ہے۔ یہ عشق کی وہ موج ہے جس کے سامنے توپوں کی آوازیں مدھم، میزائلوں کی گھن گرج بے معنی اور ظلم کی تمام تدبیریں بے اثر ہو جاتی ہیں۔

آج بھی فرات کی لہریں شاید یہی منظر دیکھ کر تڑپتی ہوں کہ جن ہونٹوں کو کبھی پانی نصیب نہ ہوا، انہی کے نام پر نکلنے والے قافلے آج بھی اپنے خون سے وفا کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ کربلا آج بھی زندہ ہے، کیونکہ حسینؑ آج بھی زندہ ہیں؛ اور حسینؑ زندہ ہیں تو ان کے عاشقوں کے قدم بھی زندہ ہیں۔ انہیں نہ بارود کی بو روک سکتی ہے، نہ خون کی ندیاں، نہ موت کی آہٹ، نہ ظلم کی طاقت۔

یہ قافلے دنیا کو ہر سال ایک ہی سبق دیتے ہیں کہ عشقِ حسینؑ منزل تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ منزل پر قربان ہو جانے کا نام ہے۔ جو اس عشق میں نکل پڑے، وہ واپسی کا راستہ نہیں دیکھتے۔ ان کی نگاہوں میں صرف ایک منظر ہوتا ہے؛ گنبدِ حسینؑ، روضۂ حسینؑ، اور وہ مقدس سرزمین جہاں شہادت نے ہمیشہ کے لیے زندگی کو شکست دے دی تھی۔

شلمچہ پر امریکہ کے میزائل گرے، مگر ان سے صرف زمین لرزی، اہلِ عشق کے دل نہیں۔ دو زائر اپنے خون سے راہِ کربلا کو مزید مقدس کر گئے، مگر ان کے بعد آنے والے لاکھوں قدموں کی چاپ پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہوگئی۔ شاید طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ آگ اور بارود عشقِ حسینؑ کا راستہ بدل دیں گے، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جس قافلے کی ابتدا علی اکبرؑ کے لہو، عباسؑ کی وفا، قاسمؑ کی جوانی اور حسینؑ کے سجدۂ آخر سے ہوئی ہو، اس کے قدم دھماکوں سے نہیں رکتے، بلکہ ہر شہادت اس کے عزم میں نئی جان ڈال دیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ یزید کی تلواریں بھی اس کارواں کو نہ روک سکیں، بنو امیہ و بنو عباس کے مظالم بھی اسے ختم نہ کر سکے، صدام کی جیلیں اور پھانسیاں بھی اس چراغ کو نہ بجھا سکیں، تو آج امریکہ کے میزائل بھی اس نور کو بجھا نہیں سکتے۔ عشقِ حسینؑ بارود سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس کی بنیاد ہی خونِ شہداء پر رکھی گئی ہے۔

شلمچہ آج صرف ایک سرحد نہیں رہا، بلکہ کربلا کے دروازے پر لکھی ہوئی ایک نئی تاریخ بن گیا ہے۔ وہاں بہنے والا ہر قطرۂ خون یہ اعلان کر رہا ہے کہ امریکہ طاقت رکھتا ہے، مگر دلوں پر حکومت نہیں؛ اس کے پاس میزائل ہیں، مگر حسینؑ کے عاشقوں کے پاس وہ ایمان ہے جسے نہ دھماکے شکست دے سکتے ہیں، نہ موت، نہ خوف، نہ ظلم۔

اور یہی اربعین کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ یہاں شہادت، سفر کو نہیں روکتی بلکہ سفر کو اور زیادہ مقدس بنا دیتی ہے۔ اس راہ میں جتنے شہید بڑھتے ہیں، اتنے ہی نئے زائر جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا راستہ دنیا کا واحد راستہ ہے جو خون سے بند نہیں ہوتا، بلکہ خون سے ہی ہمیشہ کے لیے کھلتا چلا جاتا ہے۔

  • اگر جنگ آخری حد تک پہنچ جائے!

    اگر جنگ آخری حد تک پہنچ جائے!

    حوزہ/جنگوں کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اصل معرکہ اس بات کا ہوتا ہے کہ کون اپنی معیشت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، مواصلات اور قومی حوصلے…

  • مالک اشتر رضی اللہ عنہ

    مالک اشتر رضی اللہ عنہ

    حوزہ/مالک بن حارث نخعی، المعروف مالک اشتر رضی اللہ عنہ، حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی، نہایت باوفا رفیق، بے مثال سپہ…

  • خطابت کا معیار!

    خطابت کا معیار!

    حوزہ/ خطابت صرف بولنے کا نام نہیں، دلوں کو جگانے کا فن ہے۔ خطیب کی عظمت اس کی آواز کی بلندی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے کہ اس کے الفاظ کتنی گہرائی…

  • انسانیت کا قاتل!

    انسانیت کا قاتل!

    حوزہ/آج اگر دنیا کے نقشے پر بہنے والے خون، راکھ بنتے شہروں، اجڑتی بستیوں، یتیم بچوں، بے آسرا ماؤں اور کروڑوں انسانوں کی آہوں کا محاسبہ کیا جائے تو ایک…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha